زباں کو وصفِ درود و سلام چاہیے ہے
نظر کو روضۂ خیر الانام چاہیے ہے
اسی میں راز ہے پنہاں مری فضیلت کا
مجھے غلاموں میں ادنیٰ مقام چاہیے ہے
کچھ اس لئے بھی مدینے کی رہگزر میں ہوں
کہ مجھ کو لذتِ کیفِ دوام چاہیے ہے
نہ چاہیے مجھے دنیا میں مرتبہ کچھ بھی
جو چاہیے تو گداؤں میں نام چاہیے ہے
وہ جس دیار میں مسکن ہے میرے آقا کا
تمام عمر وہیں تو قیام چاہیے ہے
انھی کے کوچے میں کٹ جائے زندگی کہ مجھے
فضائے شہرِ مدینہ مدام چاہیے ہے
جہاں میں بھی مری نسبت رہی ہے ان سے رضا
اسی حوالے سے محشر میں نام چاہیے ہے
